مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی وزیرِ صحت محمد رضا ظفرقندی نے پیر کی صبح ملک بھر کی میڈیکل یونیورسٹیوں کے سربراہان کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے 12 روزہ جنگ، دفاع مقدس کے دور اور کورونا وائرس کے دوران نظامِ صحت کی کارکردگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مشکل حالات ہی افراد اور اداروں کی صلاحیت کا اصل معیار سامنے لاتے ہیں اور طبی شعبے سے وابستہ افراد نے ان حالات میں اپنی صلاحیتوں کو بخوبی ثابت کیا ہے۔
ایرانی وزیرِ صحت نے مزید کہا کہ 12 روزہ مسلط کردہ جنگ کے آغاز سے اب تک 66 ہزار زخمیوں کا نظامِ صحت کے زیرِ انتظام طبی مراکز میں مفت علاج کیا گیا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اس جنگ کے دوران 300 سے زائد ایمبولینسیں تباہ ہوئیں؛ جبکہ 70 سے زائد اسپتالوں کو بھی نقصان پہنچا۔
انہوں نے اندیمشک اسپتال کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس اسپتال کا صرف شعبۂ حادثات قابلِ استعمال رہ گیا ہے، جبکہ دیگر مریضوں کو طبی سہولیات کے حصول کے لیے دزفول یا اہواز منتقل کرنا پڑتا ہے۔
ظفرقندی نے زور دے کر کہا کہ ان نقصانات کے باوجود نظامِ صحت نے بحران سے نمٹنے اور حالات کا مقابلہ کرنے کی اپنی صلاحیت کو اعلیٰ ترین سطح پر برقرار رکھا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ڈاکٹرز اور نرسوں سے لے کر معاون عملے اور حفاظتی اہلکاروں تک، صحت کے شعبے سے وابستہ تمام افراد نے بحرانی حالات میں بھی اپنی خدمات جاری رکھیں۔
آپ کا تبصرہ